Tuesday, 20 March 2012

موت کی تمنا نہ کرو


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ موت کی تمنا نہ کرو کیونکہ اگر وہ شخص نیک ہے تو ہو سکتا ہے کہ اسکی نیکیوں میں اضافہ ہو جائے اور اگر وہ شخص گناہگار ہے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ اسکی خطاؤں کو معاف فرمادیں(اور اسے توبہ کی توفیق مل جائے) رواہ البخاری۔۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ یہ ایک نہائت تکلیف دہ امر ہے اور سعادت کی بات یہ ہے کہ آدمی کی عمر لمبی ہو اور اللہ تبارک و تعالیٰ اسے انابت اور رجوع اللہ کی توفیق عطا فرمائیں۔(رواہ احمد)
ان احادیث مبارکہ میں ایک مومن شخص کو موت کی تمنا کرنے سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ بعض لوگ دنیاوی مصائب و آلام یا وقتی برے حالات سے گھبرا کر موت کی تمنا کیا کرتے ہیں تو ایسا کرنے سے منع کیا گیاہے کیونکہ اگر وہ آدمی نیک خصلت ہے تو اسکی نیکیوں میں اضافہ کی امید ہے اور اگر وہ گناہگار ہے تو ہو سکتا ہے کہ کسی وقت رحمت خداوندی سے اسے توبہ کی توفیق نصیب ہو جائے اور اسکے گناہ بخش دیئے جائیں۔ بہر حال موت کی تمنا کرنا منع ہے کیونکہ اس نے اپنے وقت پر آہی جانا ہے اور اگر خدانخواستہ موت کے بعد قبر میں بھی سکون نصیب نہ ہو ا تو پھر .........کونسا ٹھکانہ ہے؟

0 comments:

Post a Comment