Wednesday, 30 November 2011
Kiya Iblees Aalim Tha? (Read Full Book at ITDG)
Tuesday, 29 November 2011
Monday, 28 November 2011
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، شہادت یکم المحرم ، احادیث کی روشنی میں
مروجہ بدعات محرم قرآن و حدیث کی روشنی میں
﷽
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ذو الحجہ کا مبارک مہینہ اختتام پزیر ہے، اور ہجری سال کے نئے مہینے "محرم الحرام "کا آغاز ہونے والا ہے.میری طرف سے سب کو نیا سال مبارک ہو۔ اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ذو الحجہ کا مبارک مہینہ اختتام پزیر ہے، اور ہجری سال کے نئے مہینے "محرم الحرام "کا آغاز ہونے والا ہے.میری طرف سے سب کو نیا سال مبارک ہو۔ اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ
اللہ رب العزت اس سال کو پوری امت مسلمہ کے لیے امن، خوشحالی ، فتوحات اور کامیابیوں کا سال بنا ےٴ (آمین )۔
محرم کا مہینہ بہت محترم، مبارک اور معظم ہے، نہ کے "منحوس".اس مہینے کا پہلا دن ہی مراد رسولﷺ ، داماد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خلیفہ دوم، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یوم شہادت کا ہے.اور دس محرم نواسہ رسول ﷺ، جگرگوشہ بتول ، جنت کے جوانوں کے سردار حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا دن ہے۔
طوالت سے بچتے ہوےٴ موضوع کی طرف آتے ہیں،بلا شبہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت بہت المناک واقعہ ہے، مگر اسلام میں شہادت ایک نعمت قرار دی گئی ہے، اور دین کی تکمیل کا اعلان آنحضرت ﷺکی حیات مبارکہ میں، اسی ذو الحجہ کے مہینے میں ان الفاظ کے ساتھ ہوا تھا، جو کے مسلمانوں کے لئے نعمت عظمیٰ ہے :۔
محرم کا مہینہ بہت محترم، مبارک اور معظم ہے، نہ کے "منحوس".اس مہینے کا پہلا دن ہی مراد رسولﷺ ، داماد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خلیفہ دوم، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یوم شہادت کا ہے.اور دس محرم نواسہ رسول ﷺ، جگرگوشہ بتول ، جنت کے جوانوں کے سردار حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا دن ہے۔
طوالت سے بچتے ہوےٴ موضوع کی طرف آتے ہیں،بلا شبہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت بہت المناک واقعہ ہے، مگر اسلام میں شہادت ایک نعمت قرار دی گئی ہے، اور دین کی تکمیل کا اعلان آنحضرت ﷺکی حیات مبارکہ میں، اسی ذو الحجہ کے مہینے میں ان الفاظ کے ساتھ ہوا تھا، جو کے مسلمانوں کے لئے نعمت عظمیٰ ہے :۔
اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا
اس اعلان کے بعد دین میں کسی حکم کا اضافہ ممکن نہیں رہا ، مطلب بعد میں جو چیز بھی داخل کی جائے گی وہ محض بدعت ہو گی.اور بدعت کے بارے میں ارشاد نبوی ہے:۔
وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَکُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَکُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ
۔"سب سے بری چیز (دین میں) نئی چیز پیدا کرنا ہے اور ہر نئی چیز بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی"۔
۔"سب سے بری چیز (دین میں) نئی چیز پیدا کرنا ہے اور ہر نئی چیز بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی"۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بدعات کی گمراہی سے محفوظ رکھیں.آج ہم نظر ڈالتے ہیں تو محرم کے مہینے میں ہمیں بہت سی بدعات رائج نظر آتی ہیں، آج انہی بدعات کو ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں؛کیونکہ موضوع بہت طویل ہے، اس لئے میں نے کوشش کی ہے کہ اپنی طرف سے تفصیل پیش نہ کروں، اور ایک بات کو بیان کرنے میں زیادہ تر ایک ہی حدیث ذکر کی ہے، ورنہ ذخیرہ احادیث میں الحمدللہ بہت سی احادیث ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہیں.اور یہ بھی تکمیل دین کی ایک دلیل ہے، کہ یہ واقعہ شہادت آپ ﷺکے وصال کے ٥٠ سال بعد ہوا، بدعات کی ابتداء ٤٠٠ سال بعد.مگر ہماری رہنمائی پہلے سے موجود ارشادات میں متعین کر دی گئی تھی۔
۔:نوحہ کرنے کے بارے میں ارشادات نبویﷺ :۔
زمانہ جاہلیت کی خصلت :حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خِلَالٌ مِنْ خِلَالِ الْجَاهِلِيَّةِ الطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالنِّيَاحَةُ وَنَسِيَ الثَّالِثَةَ قَالَ سُفْيَانُ وَيَقُولُونَ إِنَّهَا الِاسْتِسْقَائُ بِالْأَنْوَائِ[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1051]۔
علی بن عبداللہ سفیان عبیداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کے نسب میں طعنہ زنی کرنا اور میت پر نوحہ کرنا زمانہ جاہلیت کی خصلت ہے تیسری بات عبیداللہ بھول گئے سفیان نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ وہ تیسری بات ستاروں کے سبب بارش کا برسنا ہے۔
نوحہ نہ کرنے پر بیعت لینا:حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا أَنْ لَا يُشْرِکْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَنَهَانَا عَنْ النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتْ امْرَأَةٌ يَدَهَا فَقَالَتْ أَسْعَدَتْنِي فُلَانَةُ أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا فَمَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَانْطَلَقَتْ وَرَجَعَتْ فَبَايَعَهَا[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2035]۔
ابو معمر، عبدالوارث، ایوب، حفصہ بنت سیرین، ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتی ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے آیت ( عَلٰي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْ ً ا الخ) ٦٠ ۔ الممتحنه: ١٢ ) پڑھی اور ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور کہا کہ فلاں عورت نے میری مدد کی تھی میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکا دوں تو اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا چنانچہ وہ عورت چلی گئی پھر واپس آئی تو آپ نے اس سے بیعت کی۔
نوحہ کرنا کفر ہے:حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ کُفْرٌ الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَی الْمَيِّتِ[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 229]۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، ابن نمیر، محمد بن عبید، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔
نوحہ کرنے پر عذاب:حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُکُونَهُنَّ الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالْاسْتِسْقَائُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ وَقَالَ النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2153]۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان بن یزید، ح، اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، ابان، یحیی، زید، ابوسلام، حضرت ابومالک اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار باتیں میری امت میں زمانہ جاہلیت کی ایسی ہیں کہ وہ ان کو نہ چھوڑیں گے۔ اپنے حسب پر فخر اور نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے پانی کا طلب کرنا، اور نوحہ کرنا فرمایا نوحہ کرنے والی اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر گندھک کا کرتا اور زنگ کی چادر ہو گی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ ابْنِ مُعَانِقٍ أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1581]۔
عباس بن عبدالعظیم عنبری و محمد بن یحییٰ، عبدالرزاق، معمر، یحییٰ بن کثیر، ابن معانق یا ابی معانق، حضرت ابومالک اشعری بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے اور نوحہ کرنے والی جب توبہ کے بغیر مرے تو اللہ تعالیٰ اسکو تارکول کا لباس اور دوزخ کے شعلوں کا کرتہ پہنائیں گے ۔
نوحہ کی ممانعت:حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ النِّيَاحَةِ [سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1359]۔
مسدد، عبدالوارث، ایوب، حفصہ، حضرت ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی پر لعنت :حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ [سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1360]۔
ابراہیم بن موسی، محمد بن ربیعہ، محمد بن حسن بن عطیہ، حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے والی عورت اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
اسلام میں نوحہ نہیں :أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَائً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ[سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1857]۔
اسحاق ، عبدالرزاق، معمر، ثابت، انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس وقت خواتین سے بیعت لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے نوحہ نہ کرنے کا عہد کرایا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بعض خواتین نے دور جاہلیت میں ہماری امداد (نوحہ کرنے میں) کی ہے کیا ہم بھی ان کی امداد کریں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں یہ چیز نہیں ہے (یعنی نوحہ کرنا اور مرنے والے پر زار و قطار آواز سے رونا ماتم کرنا نہیں ہے)۔
علی بن عبداللہ سفیان عبیداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کے نسب میں طعنہ زنی کرنا اور میت پر نوحہ کرنا زمانہ جاہلیت کی خصلت ہے تیسری بات عبیداللہ بھول گئے سفیان نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ وہ تیسری بات ستاروں کے سبب بارش کا برسنا ہے۔
نوحہ نہ کرنے پر بیعت لینا:حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا أَنْ لَا يُشْرِکْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَنَهَانَا عَنْ النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتْ امْرَأَةٌ يَدَهَا فَقَالَتْ أَسْعَدَتْنِي فُلَانَةُ أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا فَمَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَانْطَلَقَتْ وَرَجَعَتْ فَبَايَعَهَا[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2035]۔
ابو معمر، عبدالوارث، ایوب، حفصہ بنت سیرین، ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتی ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے آیت ( عَلٰي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْ ً ا الخ) ٦٠ ۔ الممتحنه: ١٢ ) پڑھی اور ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور کہا کہ فلاں عورت نے میری مدد کی تھی میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکا دوں تو اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا چنانچہ وہ عورت چلی گئی پھر واپس آئی تو آپ نے اس سے بیعت کی۔
نوحہ کرنا کفر ہے:حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ کُفْرٌ الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَی الْمَيِّتِ[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 229]۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، ابن نمیر، محمد بن عبید، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔
نوحہ کرنے پر عذاب:حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُکُونَهُنَّ الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالْاسْتِسْقَائُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ وَقَالَ النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2153]۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان بن یزید، ح، اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، ابان، یحیی، زید، ابوسلام، حضرت ابومالک اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار باتیں میری امت میں زمانہ جاہلیت کی ایسی ہیں کہ وہ ان کو نہ چھوڑیں گے۔ اپنے حسب پر فخر اور نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے پانی کا طلب کرنا، اور نوحہ کرنا فرمایا نوحہ کرنے والی اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر گندھک کا کرتا اور زنگ کی چادر ہو گی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ ابْنِ مُعَانِقٍ أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1581]۔
عباس بن عبدالعظیم عنبری و محمد بن یحییٰ، عبدالرزاق، معمر، یحییٰ بن کثیر، ابن معانق یا ابی معانق، حضرت ابومالک اشعری بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے اور نوحہ کرنے والی جب توبہ کے بغیر مرے تو اللہ تعالیٰ اسکو تارکول کا لباس اور دوزخ کے شعلوں کا کرتہ پہنائیں گے ۔
نوحہ کی ممانعت:حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ النِّيَاحَةِ [سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1359]۔
مسدد، عبدالوارث، ایوب، حفصہ، حضرت ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی پر لعنت :حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ [سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1360]۔
ابراہیم بن موسی، محمد بن ربیعہ، محمد بن حسن بن عطیہ، حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے والی عورت اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
اسلام میں نوحہ نہیں :أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَائً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ[سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1857]۔
اسحاق ، عبدالرزاق، معمر، ثابت، انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس وقت خواتین سے بیعت لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے نوحہ نہ کرنے کا عہد کرایا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بعض خواتین نے دور جاہلیت میں ہماری امداد (نوحہ کرنے میں) کی ہے کیا ہم بھی ان کی امداد کریں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں یہ چیز نہیں ہے (یعنی نوحہ کرنا اور مرنے والے پر زار و قطار آواز سے رونا ماتم کرنا نہیں ہے)۔
نوحہ،شیطان کی آواز :حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَی ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ فَوَجَدَهُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَکَی فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَتَبْکِي أَوَلَمْ تَکُنْ نَهَيْتَ عَنْ الْبُکَائِ قَالَ لَا وَلَکِنْ نَهَيْتُ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ صَوْتٍ عِنْدَ مُصِيبَةٍ خَمْشِ وُجُوهٍ وَشَقِّ جُيُوبٍ وَرَنَّةِ شَيْطَانٍ وَفِي الْحَدِيثِ کَلَامٌ أَکْثَرُ مِنْ هَذَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ[جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1003]۔
علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن لیلی، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے صاحبزادے ابراہیم کے پاس لے گئے وہ اس وقت نزع کی حالت میں تھے۔ آپ نے انہیں اپنی گود میں لیا اور رونے لگے۔ عبدالرحمن نے عرض کیا آپ بھی روتے ہیں؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ بیوقوفی اور نا فرمانی کی دو آوازوں سے منع کیا ہے ایک تو مصیبت کے وقت کی آواز جب چہرہ نوچا جائے اور گریبان چاک کیا جائے دوسری شیطان کی طرح رونے کی آواز (یعنی نوحہ) امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔
"نیک کام میں نا فرمانی" سے مراد نوحہ ہے:حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَی الصَّهْبَائِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْصِينَکَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ النَّوْحُ[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1579]۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، یزید بن عبداللہ مولیٰ صحباء، شہر بن حوشب، حضرت ام سلمہ نبی سے روایت کرتی ہیں کہ وَلَا يَعْصِينَکَ فِي مَعْرُوفٍ کہ عورتیں نیک کام میں آپ کی نا فرمانی کریں سے مراد نوحہ کرنا ہے ۔
ایسے جنازے میں بھی نہ جاؤ جس میں نوحہ ہو: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي يَحْيَی عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1583]۔
احمد بن یوسف، عبید اللہ، اسرائیل، ابویحییٰ، مجاہد، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ نوحہ کرنے والی عورت ہو۔
مرثیہ گوئی کی ممانعت :
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ شرکاء بیعت رضوان میں سے تھے ان کی ایک بیٹی فوت ہوگئی وہ ایک خچر پر سوار ہو کر اس کے جنازے کے پیچھے چل رہے تھے کہ عورتیں رونے لگیں انہوں نے خواتین سے فرمایا کہ تم لوگ مرثیہ نہ پڑھو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے البتہ تم میں سے جو عورت جتنے آنسوبہانا چاہتی ہے سوبہالے پھر انہوں نے اس کے جنازے پر چارتکبیرات کہیں اور چوتھی تکبیرکے بعد اتنی دیرکھڑے ہو کر دعاء کرتے رہے جتناوقفہ دوتکبیروں کے درمیان تھا، پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جنازے میں اسی طرح فرماتے تھے۔[مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 958]۔
علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن لیلی، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے صاحبزادے ابراہیم کے پاس لے گئے وہ اس وقت نزع کی حالت میں تھے۔ آپ نے انہیں اپنی گود میں لیا اور رونے لگے۔ عبدالرحمن نے عرض کیا آپ بھی روتے ہیں؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ بیوقوفی اور نا فرمانی کی دو آوازوں سے منع کیا ہے ایک تو مصیبت کے وقت کی آواز جب چہرہ نوچا جائے اور گریبان چاک کیا جائے دوسری شیطان کی طرح رونے کی آواز (یعنی نوحہ) امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔
"نیک کام میں نا فرمانی" سے مراد نوحہ ہے:حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَی الصَّهْبَائِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْصِينَکَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ النَّوْحُ[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1579]۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، یزید بن عبداللہ مولیٰ صحباء، شہر بن حوشب، حضرت ام سلمہ نبی سے روایت کرتی ہیں کہ وَلَا يَعْصِينَکَ فِي مَعْرُوفٍ کہ عورتیں نیک کام میں آپ کی نا فرمانی کریں سے مراد نوحہ کرنا ہے ۔
ایسے جنازے میں بھی نہ جاؤ جس میں نوحہ ہو: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي يَحْيَی عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1583]۔
احمد بن یوسف، عبید اللہ، اسرائیل، ابویحییٰ، مجاہد، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ نوحہ کرنے والی عورت ہو۔
مرثیہ گوئی کی ممانعت :
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ شرکاء بیعت رضوان میں سے تھے ان کی ایک بیٹی فوت ہوگئی وہ ایک خچر پر سوار ہو کر اس کے جنازے کے پیچھے چل رہے تھے کہ عورتیں رونے لگیں انہوں نے خواتین سے فرمایا کہ تم لوگ مرثیہ نہ پڑھو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے البتہ تم میں سے جو عورت جتنے آنسوبہانا چاہتی ہے سوبہالے پھر انہوں نے اس کے جنازے پر چارتکبیرات کہیں اور چوتھی تکبیرکے بعد اتنی دیرکھڑے ہو کر دعاء کرتے رہے جتناوقفہ دوتکبیروں کے درمیان تھا، پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جنازے میں اسی طرح فرماتے تھے۔[مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 958]۔
۔:ماتم کے بارے میں ارشادات نبویﷺ :۔
ماتم کرنے والا ہم میں سے نہیں :حَدَّثَنِا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَعَنْ سُفْيَانَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 748]۔
ثابت بن محمد سفیان اعمش عبداللہ بن مرہ مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص (غمی و ماتم میں) اپنے رخساروں کو پیٹے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کے لوگوں کی طرح گفتگو کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
ماتم کرنے والے سے میں بری ہوں :حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْکُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی قَالَا أُغْمِيَ عَلَی أَبِي مُوسَی وَأَقْبَلَتْ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ قَالَا ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمِي وَکَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 288]۔
عبد بن حمید، اسحاق بن منصور، جعفر بن عون، ابوعمیس، ابوصخرہ، عبدالرحمن بن یزید، ابی بردہ، ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مرض کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی تو ان کی اہلیہ ام عبداللہ چلاّ اٹھیں حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب افاقہ ہوا تو فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس سے بری ہوں جو بطور ماتم بال منڈوائے اور چلاّ کر روئے اور کپڑے پھاڑے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَی عَنْ الْأَعْمَشِ ح أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدُعَائِ الْجَاهِلِيَّةِ وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ وَقَالَ الْحَسَنُ بِدَعْوَی[سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1865]۔
علی بن خشرم، عیسی، اعمش، حسن بن اسماعیل، ابن ادریس، اعمش، عبداللہ بن مرة، مسروق، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ہمارے میں سے نہیں ہے جو کہ رخسار پیٹے (یعنی گال پر ہاتھ مار مار کر روئے) اور وہ شخص مسلمان نہیں ہے جو کہ گال پیٹے اور گریبان چاک کرے اور جاہلیت کے زمانہ کی طرح پکارے (یعنی ماتم کرے) ۔
مردوں کے لیے ماتم کرنا جائز نہیں:أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا[سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1442]۔
محمد بن بشار، عبدالوہاب، نافع، صفیہ بنت ابی عبید، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خداوند قدوس اور قیامت کے روز پر ایمان لانے والی خاتون کے واسطے کسی مردہ پر تین دن سے زیادہ ماتم کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن شوہر کے انتقال پر اس کو چار ماہ دس روز تک عدت گزارنا لازم ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی هَذَا الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تَحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا[سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1466]۔
اسحاق بن منصور، عبداللہ بن یوسف، لیث، ایوب ابن موسی، حمید بن نافع، زینب بنت ابوسلمہ، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی منبر پر فرمایا اور قیامت کے دن پر ایمان لانے والی کسی خاتون کے واسطے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے علاوہ کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ ماتم کرے لیکن شوہر کی وفات پر چار ماہ دس روز تک وہ غم منائے (یعنی عدت گزارے)۔
۔(ان احاد یث سے پتہ چلتا ہے کے عورتوں کی فطری کمزوری کی وجہ سے انہیں تو شوہر کےعلاوہ کسی عزیز کے لئے تین دن تک غم اور سوگ کی گنجائش دی گئی ہے ، مگر مردوں کو کسی کے لئے بھی سوگ/ماتم کی شریعت میں اجازت نہیں) ۔
ثابت بن محمد سفیان اعمش عبداللہ بن مرہ مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص (غمی و ماتم میں) اپنے رخساروں کو پیٹے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کے لوگوں کی طرح گفتگو کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
ماتم کرنے والے سے میں بری ہوں :حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْکُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی قَالَا أُغْمِيَ عَلَی أَبِي مُوسَی وَأَقْبَلَتْ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ قَالَا ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمِي وَکَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 288]۔
عبد بن حمید، اسحاق بن منصور، جعفر بن عون، ابوعمیس، ابوصخرہ، عبدالرحمن بن یزید، ابی بردہ، ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مرض کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی تو ان کی اہلیہ ام عبداللہ چلاّ اٹھیں حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب افاقہ ہوا تو فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس سے بری ہوں جو بطور ماتم بال منڈوائے اور چلاّ کر روئے اور کپڑے پھاڑے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَی عَنْ الْأَعْمَشِ ح أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدُعَائِ الْجَاهِلِيَّةِ وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ وَقَالَ الْحَسَنُ بِدَعْوَی[سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1865]۔
علی بن خشرم، عیسی، اعمش، حسن بن اسماعیل، ابن ادریس، اعمش، عبداللہ بن مرة، مسروق، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ہمارے میں سے نہیں ہے جو کہ رخسار پیٹے (یعنی گال پر ہاتھ مار مار کر روئے) اور وہ شخص مسلمان نہیں ہے جو کہ گال پیٹے اور گریبان چاک کرے اور جاہلیت کے زمانہ کی طرح پکارے (یعنی ماتم کرے) ۔
مردوں کے لیے ماتم کرنا جائز نہیں:أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا[سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1442]۔
محمد بن بشار، عبدالوہاب، نافع، صفیہ بنت ابی عبید، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خداوند قدوس اور قیامت کے روز پر ایمان لانے والی خاتون کے واسطے کسی مردہ پر تین دن سے زیادہ ماتم کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن شوہر کے انتقال پر اس کو چار ماہ دس روز تک عدت گزارنا لازم ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی هَذَا الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تَحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا[سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1466]۔
اسحاق بن منصور، عبداللہ بن یوسف، لیث، ایوب ابن موسی، حمید بن نافع، زینب بنت ابوسلمہ، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی منبر پر فرمایا اور قیامت کے دن پر ایمان لانے والی کسی خاتون کے واسطے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے علاوہ کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ ماتم کرے لیکن شوہر کی وفات پر چار ماہ دس روز تک وہ غم منائے (یعنی عدت گزارے)۔
۔(ان احاد یث سے پتہ چلتا ہے کے عورتوں کی فطری کمزوری کی وجہ سے انہیں تو شوہر کےعلاوہ کسی عزیز کے لئے تین دن تک غم اور سوگ کی گنجائش دی گئی ہے ، مگر مردوں کو کسی کے لئے بھی سوگ/ماتم کی شریعت میں اجازت نہیں) ۔
۔:سوگ کے بارے میں ارشادات نبویﷺ :۔
صحابیات رضی اللہ عنہن کا عمل :حدثنا مسدد حدثنا بشر بن المفضل حدثنا سلمة بن علقمة عن محمد بن سيرين قال توفي ابن لأم عطية رضي الله عنها فلما کان اليوم الثالث دعت بصفرة فتمسحت به وقالت نهينا أن نحد أکثر من ثلاث إلا بزوج[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1213]۔
مسدد، بشر بن مفضل، سلمہ بن علقمہ، محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا ایک لڑکا وفات پا گیا جب تیسرا دن آیا تو زردی منگوائی اور اس کو بدن پر ملا اور کہا کہ ہم لوگوں کو شوہر کے علاوہ کسی اور پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حدثنا الحميدي حدثنا سفيان حدثنا أيوب بن موسیٰ قال أخبرني حميد بن نافع عن زينب بنت أبي سلمة قالت لما جائ نعي أبي سفيان من الشأم دعت أم حبيبة رضي الله عنها بصفرة في اليوم الثالث فمسحت عارضيها وذراعيها وقالت إني کنت عن هذا لغنية لولا أني سمعت النبي صلی الله عليه وسلم يقول لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد علی ميت فوق ثلاث إلا علی زوج فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1214]۔
حمیدی، سفیان، ایوب بن موسی، حمید بن نافع، زینت بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ زینب نے بیان کیا کہ جب شام سے ابوسفیان کی موت کی خبر آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن زردی منگوائی اور اس کو اپنے رخسار اور اپنے ہاتھوں میں ملا اور بیان کیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنتی کہ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ سوائے شوہر کے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے صرف شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ کرے گی۔
حدثنا إسماعيل حدثني مالک عن عبد الله بن أبي بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن حميد بن نافع عن زينب بنت أبي سلمة أخبرته قالت دخلت علی أم حبيبة زوج النبي صلی الله عليه وسلم فقالت سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد علی ميت فوق ثلاث إلا علی زوج أربعة أشهر وعشرا ثم دخلت علی زينب بنت جحش حين توفي أخوها فدعت بطيب فمست به ثم قالت ما لي بالطيب من حاجة غير أني سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم علی المنبر يقول لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد علی ميت فوق ثلاث إلا علی زوج أربعة أشهر وعشرا[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1215]۔
اسمعیل، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، محمد بن عمر بن حزم حمید بن نافع، زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں زینب نے بیان کیا کہ میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ اس کی وفات پر چار مہینے دس دن سوگ کرے گی، پھر میں زینب بنت جحش کے پاس گئی۔ جب ان کے بھائی( عبیداللہ بن جحش) نے انتقال کیا تھا انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس کو ملا، پھر کہا کہ مجھ کو خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لئے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ کرے، مگر شوہر پر چار مہینہ دس دن تک سوگ کرے گی۔
مسدد، بشر بن مفضل، سلمہ بن علقمہ، محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا ایک لڑکا وفات پا گیا جب تیسرا دن آیا تو زردی منگوائی اور اس کو بدن پر ملا اور کہا کہ ہم لوگوں کو شوہر کے علاوہ کسی اور پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حدثنا الحميدي حدثنا سفيان حدثنا أيوب بن موسیٰ قال أخبرني حميد بن نافع عن زينب بنت أبي سلمة قالت لما جائ نعي أبي سفيان من الشأم دعت أم حبيبة رضي الله عنها بصفرة في اليوم الثالث فمسحت عارضيها وذراعيها وقالت إني کنت عن هذا لغنية لولا أني سمعت النبي صلی الله عليه وسلم يقول لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد علی ميت فوق ثلاث إلا علی زوج فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1214]۔
حمیدی، سفیان، ایوب بن موسی، حمید بن نافع، زینت بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ زینب نے بیان کیا کہ جب شام سے ابوسفیان کی موت کی خبر آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن زردی منگوائی اور اس کو اپنے رخسار اور اپنے ہاتھوں میں ملا اور بیان کیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنتی کہ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ سوائے شوہر کے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے صرف شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ کرے گی۔
حدثنا إسماعيل حدثني مالک عن عبد الله بن أبي بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن حميد بن نافع عن زينب بنت أبي سلمة أخبرته قالت دخلت علی أم حبيبة زوج النبي صلی الله عليه وسلم فقالت سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد علی ميت فوق ثلاث إلا علی زوج أربعة أشهر وعشرا ثم دخلت علی زينب بنت جحش حين توفي أخوها فدعت بطيب فمست به ثم قالت ما لي بالطيب من حاجة غير أني سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم علی المنبر يقول لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد علی ميت فوق ثلاث إلا علی زوج أربعة أشهر وعشرا[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1215]۔
اسمعیل، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، محمد بن عمر بن حزم حمید بن نافع، زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں زینب نے بیان کیا کہ میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ اس کی وفات پر چار مہینے دس دن سوگ کرے گی، پھر میں زینب بنت جحش کے پاس گئی۔ جب ان کے بھائی( عبیداللہ بن جحش) نے انتقال کیا تھا انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس کو ملا، پھر کہا کہ مجھ کو خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لئے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ کرے، مگر شوہر پر چار مہینہ دس دن تک سوگ کرے گی۔
۔:حلیم پکانے کے بارے میں ارشادات نبویﷺ :۔
یہاں ہمارا استدلال اس بات سے ہے کہ ١٠ محرم کے دن روزہ رکھنے کا حکم ہے نہ کہ حلیم کھا کر اور کھلا کر خود بھی روزہ چھوڑو اور دوسروں کو بھی چھوڑا ؤ.حدیث مبارکہ ہے:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،" جب کوئی قوم (دین میں ) نئی بات نکالتی ہے (یعنی ایسی بدعت جو سنت کے مزاحم ہو) تو اس کے مثل ایک سنت اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا سنت کو مضبوط پکڑنا نئی بات نکالنے (بدعت) سے بہتر ہے"۔
صوم عاشورہ کی وجہ :حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَی الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّی اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسَی قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَی مِنْکُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1894]۔
ابومعمر، عبدالوارث، ایوب، عبداللہ بن سعید بن جبیر، سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ روزہ کیسا ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ بہتر دن ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دی تھی، اس لئے حضرت موسیٰ نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تمہارے اعتبار سے زیادہ موسیٰ کے حقدار ہیں۔چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
عاشورہ کے روزہ کا ثواب :يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 252]۔
عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک روزہ اس کے ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
محرم،اللہ کا مہینہ :حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ لَهُ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَسْأَلُ عَنْ هَذَا إِلَّا رَجُلًا سَمِعْتُهُ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ إِنْ کُنْتَ صَائِمًا بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ فِيهِ يَوْمٌ تَابَ فِيهِ عَلَی قَوْمٍ وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَی قَوْمٍ آخَرِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ[جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 726]۔
علی بن حجر، علی بن مسہر، عبدالرحمن بن اسحاق، نعمان بن سعد، علی سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے علاوہ کون سے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں حضرت علی نے فرمایا میں نے صرف ایک آدمی کے علاوہ کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے نہیں سنا میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے رمضان کے علاوہ کون سے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم دیتے ہیں فرمایا اگر رمضان کے بعد روزہ رکھنا چاہے تو محرم کے روزے رکھا کرو کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اس دن دوسری قوم کی بھی توبہ قبول کرے گا امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے
عاشورے کے روزے کی ترغیب :حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ وَهِنْدِ بْنِ أَسْمَائَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَالرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَائَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ عَمِّهِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ذَکَرُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَثَّ عَلَی صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَائَ قَالَ أَبُو عِيسَی لَا نَعْلَمُ فِي شَيْئٍ مِنْ الرِّوَايَاتِ أَنَّهُ قَالَ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ کَفَّارَةُ سَنَةٍ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ وَبِحَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 737]۔
قتیبہ، احمد بن عبدہ، حماد بن زید، غیلان بن جریر، عبداللہ بن معبد، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص یوم عاشورہ (یعنی محرم کی دس تاریخ) کا روزہ رکھے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گز شتہ سال کے تمام گناہ معاف فرمادے۔ اس باب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، محمد بن صفیی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سملہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ہند بن اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ربیع بنت معوذ بن عفرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔ عبدالرحمن بن سلمہ خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں۔ یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورے کے روزے کی ترغیب دی۔ امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ کی حدیث کے قائل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،" جب کوئی قوم (دین میں ) نئی بات نکالتی ہے (یعنی ایسی بدعت جو سنت کے مزاحم ہو) تو اس کے مثل ایک سنت اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا سنت کو مضبوط پکڑنا نئی بات نکالنے (بدعت) سے بہتر ہے"۔
صوم عاشورہ کی وجہ :حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَی الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّی اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسَی قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَی مِنْکُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1894]۔
ابومعمر، عبدالوارث، ایوب، عبداللہ بن سعید بن جبیر، سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ روزہ کیسا ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ بہتر دن ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دی تھی، اس لئے حضرت موسیٰ نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تمہارے اعتبار سے زیادہ موسیٰ کے حقدار ہیں۔چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
عاشورہ کے روزہ کا ثواب :يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 252]۔
عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک روزہ اس کے ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
محرم،اللہ کا مہینہ :حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ لَهُ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَسْأَلُ عَنْ هَذَا إِلَّا رَجُلًا سَمِعْتُهُ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ إِنْ کُنْتَ صَائِمًا بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ فِيهِ يَوْمٌ تَابَ فِيهِ عَلَی قَوْمٍ وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَی قَوْمٍ آخَرِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ[جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 726]۔
علی بن حجر، علی بن مسہر، عبدالرحمن بن اسحاق، نعمان بن سعد، علی سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے علاوہ کون سے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں حضرت علی نے فرمایا میں نے صرف ایک آدمی کے علاوہ کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے نہیں سنا میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے رمضان کے علاوہ کون سے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم دیتے ہیں فرمایا اگر رمضان کے بعد روزہ رکھنا چاہے تو محرم کے روزے رکھا کرو کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اس دن دوسری قوم کی بھی توبہ قبول کرے گا امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے
عاشورے کے روزے کی ترغیب :حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ وَهِنْدِ بْنِ أَسْمَائَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَالرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَائَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ عَمِّهِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ذَکَرُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَثَّ عَلَی صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَائَ قَالَ أَبُو عِيسَی لَا نَعْلَمُ فِي شَيْئٍ مِنْ الرِّوَايَاتِ أَنَّهُ قَالَ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ کَفَّارَةُ سَنَةٍ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ وَبِحَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 737]۔
قتیبہ، احمد بن عبدہ، حماد بن زید، غیلان بن جریر، عبداللہ بن معبد، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص یوم عاشورہ (یعنی محرم کی دس تاریخ) کا روزہ رکھے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گز شتہ سال کے تمام گناہ معاف فرمادے۔ اس باب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، محمد بن صفیی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سملہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ہند بن اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ربیع بنت معوذ بن عفرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔ عبدالرحمن بن سلمہ خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں۔ یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورے کے روزے کی ترغیب دی۔ امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ کی حدیث کے قائل ہیں۔
۔:کچھ مزید بدعات نصوص کی روشنی میں :۔
٭اس کے علاوہ تعزیے، علم بنا کر ان سے منتیں مانگی جاتی ہیں،یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ (نعوذباللہ )موجود ہیں، جو کہ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ کا مصداق ہو کر حرام ہیں۔
٭حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی نذریں چڑھائی جاتی ہیں، جن کا کھانا مَااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ میں داخل ہے ، اور ایسی کسی بھی نذر کا ماننا اور اسے پورا کرنا ، اس کا کھانا سب حرام ہے، نذر عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت شرک ہے۔
٭اس کے علاوہ تعزیے، علم بنا کر ان سے منتیں مانگی جاتی ہیں،یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ (نعوذباللہ )موجود ہیں، جو کہ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ کا مصداق ہو کر حرام ہیں۔
٭حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی نذریں چڑھائی جاتی ہیں، جن کا کھانا مَااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ میں داخل ہے ، اور ایسی کسی بھی نذر کا ماننا اور اسے پورا کرنا ، اس کا کھانا سب حرام ہے، نذر عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت شرک ہے۔
٭مزید یہ کے بچوں کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا فقیر بنایا جاتا ہے اور ان سے بھیک منگوائی جاتی ہے، اس کے ساتھ یہ شرکیہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ اس طرح بچے زندہ رہے گا اور اس کی عمر دراز ہو گی، یہ بھی خود ساختہ شرکیہ عقیدہ ہے اور بلا اضطرار بھیک مانگنا بھی حرام ہے۔
٭اللہ تعالیٰ کی طرف سےشریعت ابراھیمی ہی سے محترم قرار دئیے گئے مہینے کو منحوس سمجھ کر شادی بیاہ ، اور دیگر خوشی کی تقریبات سے احتراز کیا جاتا ہے جو کے شریعت میں اضافہ ہے، اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرنا ہے۔ مسلم شریف میں ایک حدیث قدسی ہے:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم زمانے کو گالی دے کر مجھے ایذاء دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں میں دن رات کو گردش دیتا ہوں۔
ذرا سوچیں ، خالق کائنات فرماتا ہے:اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ، محرم حرمت والا، خاص ادب، احترام کا مہینہ ہے، اور ہم ادنیٰ مخلوق کہتے ہیں کہ نہیں جی، نحوست والا ہے۔
٭کالے کپڑے پہننا فی نفسہ جائز ہیں، مگر محرم میں سوگ کے عنوان سے پہننا ممنوع ہیں، ان دنوں میں کالے کپڑے پہننا دشمنان صحابہ سے مشابہت ہے اور فرمان نبوی ہے :مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ۔
٭محرم کے جلسوں اور مجالس میں شرکت مَنْ کَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْکی رو سے اہل باطل کی شان و شوکت کو بڑھانا ہے، جس کی بناء پر انہی میں شمار ہونے کی وعید سنائی گئی ہے۔
٭محرم کے مہینے میں شربت کی سبیلیں لگانے میں گویا یہ عقیدہ ہے کہ شہداء کربلا ابھی تک بھوکے ، پیاسے ہیں ، اور یہ کھانا ، پینا ان تک پہنچتا ہے، تو یہ انتہائی فضول بات ہے. شہداء کا اعزاز و اکرام تو ان کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے، پھر یہ عشق و محبت دیکھیں کہ وہ حضرات تو بھوکے، پیاسے شہید ہوےٴ اور ہم مزے سے کھائیں ، پیئیں....۔ان سبیلوں کے لئے چندہ دینا بھی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، کے حکم کی وجہ سے ممنوع ہے۔
٭ان جلسوں میں ڈھول ، باجوں کے ساتھ جلوس نکلتا ہے، نکلتے ماتم کے نام سے ہیں، اور اصل میں نفس اور شیطان کو خوش کرتے ہیں، حضرات اہل بیت رضی اللہ عنہم کا غم اور حضور سرورعالمﷺ کی نافرمانی!۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پوری دنیا کے لئے رحمت اور تمام عالم کے لئے ہادی بنا کربھیجا ہے ، اور میرے بزرگ وبرتر خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں ، مزامیر ، بتوں ، صلیب اور زمانہ جاہلیت(یعنی حالت کفر )کے تمام رسوم وعادات کو مٹا دوں۔
آپ ﷺتو گانے بجانے کے آلات مٹا دینے کے حکم کے ساتھ مبعوث کیے گئے ہیں، اور آپﷺ کے نواسے کا غم انہی آلات کے ساتھ منایا جا رہا ہے، واہ سبحان اللہ ، کیا کہنے اس جھوٹی محبت کے ۔
٭ان جلوس کی بد ترین چیز سب صحابہؓ ہے، جو کھلے عام انکے جلوس میں ہوتا ہے .صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث کی بے شمار نصوص موجود ہیں، ہم انہیں بیان کرنے کی بجائے اس موقع پر صرف ایک حدیث ذکر کرتے ہیں:۔
عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا : لعنة الله على شركم . رواه الترمذي
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو تم کہو اللہ کی لعنت ہو تمہاری بری حرکت پر ۔
٭واقعہ کربلا کے حوالے سے جو کتابیں، کیسیٹس ، سی.ڈیز ، ریڈیو ، ٹی.وی میں بیان کردہ رنگ آمیز قصّے سنے جاتے ہیں، ان میں بھی اکثر جھوٹی، من گھڑت ، خود ساختہ روایات کی آمیزش ہوتی ہے، جن سے بچنا چاہئے ۔
یقینًاحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھی کربلا میں ظلمًا شہید کئے گئے ، مگر اسلام میں صرف یہی ایک شہادت نہیں، بلکہ اور بھی مبارک ہستیوں کو ظلمًا شہیدکیا گیا ہے. اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت ان کے نانا جانﷺ کی وجہ ہی سے ہے، تو ان ہی کے طریقے کی مخالفت کے ساتھ کیسے ہو سکتی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟۔محبت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ہم وہ کام کریں جو وہ کرتے تھے، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تقویٰ، خشیت ، للہیت کی صفات سے آراستہ تھے، ہمیشہ اپنے نانا جان ﷺکے طریقے پر چلتے ہوےٴ زندگی بسر کی، کبھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہیں کی، جب کہ ہم صرف جھوٹی محبت کے دعوےدار ہیں ، ہماری زندگیاں ان کے بر عکس ہیں ، فضول رسومات اور بدعات میں اپنا وقت، پیسہ اور وسائل پربرباد کر رہے ہیں، اسوہٴ حسینی تو یہ ہوتا کے ہم حق کی پیروی کرتے اور جہاد کو مقصد زندگی بناتے.اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی، اپنے رسول ﷺ، خلفاء راشدین، اہل بیت، تمام صحابہرضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائیں ، اور بدعات، رسومات، خرافات سے بچا کر اس مہینے کے حقیقی احترام کی توفیق عطا فرمائیں.(آمین )۔
٭اللہ تعالیٰ کی طرف سےشریعت ابراھیمی ہی سے محترم قرار دئیے گئے مہینے کو منحوس سمجھ کر شادی بیاہ ، اور دیگر خوشی کی تقریبات سے احتراز کیا جاتا ہے جو کے شریعت میں اضافہ ہے، اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرنا ہے۔ مسلم شریف میں ایک حدیث قدسی ہے:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم زمانے کو گالی دے کر مجھے ایذاء دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں میں دن رات کو گردش دیتا ہوں۔
ذرا سوچیں ، خالق کائنات فرماتا ہے:اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ، محرم حرمت والا، خاص ادب، احترام کا مہینہ ہے، اور ہم ادنیٰ مخلوق کہتے ہیں کہ نہیں جی، نحوست والا ہے۔
٭کالے کپڑے پہننا فی نفسہ جائز ہیں، مگر محرم میں سوگ کے عنوان سے پہننا ممنوع ہیں، ان دنوں میں کالے کپڑے پہننا دشمنان صحابہ سے مشابہت ہے اور فرمان نبوی ہے :مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ۔
٭محرم کے جلسوں اور مجالس میں شرکت مَنْ کَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْکی رو سے اہل باطل کی شان و شوکت کو بڑھانا ہے، جس کی بناء پر انہی میں شمار ہونے کی وعید سنائی گئی ہے۔
٭محرم کے مہینے میں شربت کی سبیلیں لگانے میں گویا یہ عقیدہ ہے کہ شہداء کربلا ابھی تک بھوکے ، پیاسے ہیں ، اور یہ کھانا ، پینا ان تک پہنچتا ہے، تو یہ انتہائی فضول بات ہے. شہداء کا اعزاز و اکرام تو ان کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے، پھر یہ عشق و محبت دیکھیں کہ وہ حضرات تو بھوکے، پیاسے شہید ہوےٴ اور ہم مزے سے کھائیں ، پیئیں....۔ان سبیلوں کے لئے چندہ دینا بھی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، کے حکم کی وجہ سے ممنوع ہے۔
٭ان جلسوں میں ڈھول ، باجوں کے ساتھ جلوس نکلتا ہے، نکلتے ماتم کے نام سے ہیں، اور اصل میں نفس اور شیطان کو خوش کرتے ہیں، حضرات اہل بیت رضی اللہ عنہم کا غم اور حضور سرورعالمﷺ کی نافرمانی!۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پوری دنیا کے لئے رحمت اور تمام عالم کے لئے ہادی بنا کربھیجا ہے ، اور میرے بزرگ وبرتر خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں ، مزامیر ، بتوں ، صلیب اور زمانہ جاہلیت(یعنی حالت کفر )کے تمام رسوم وعادات کو مٹا دوں۔
آپ ﷺتو گانے بجانے کے آلات مٹا دینے کے حکم کے ساتھ مبعوث کیے گئے ہیں، اور آپﷺ کے نواسے کا غم انہی آلات کے ساتھ منایا جا رہا ہے، واہ سبحان اللہ ، کیا کہنے اس جھوٹی محبت کے ۔
٭ان جلوس کی بد ترین چیز سب صحابہؓ ہے، جو کھلے عام انکے جلوس میں ہوتا ہے .صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث کی بے شمار نصوص موجود ہیں، ہم انہیں بیان کرنے کی بجائے اس موقع پر صرف ایک حدیث ذکر کرتے ہیں:۔
عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا : لعنة الله على شركم . رواه الترمذي
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو تم کہو اللہ کی لعنت ہو تمہاری بری حرکت پر ۔
٭واقعہ کربلا کے حوالے سے جو کتابیں، کیسیٹس ، سی.ڈیز ، ریڈیو ، ٹی.وی میں بیان کردہ رنگ آمیز قصّے سنے جاتے ہیں، ان میں بھی اکثر جھوٹی، من گھڑت ، خود ساختہ روایات کی آمیزش ہوتی ہے، جن سے بچنا چاہئے ۔
یقینًاحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھی کربلا میں ظلمًا شہید کئے گئے ، مگر اسلام میں صرف یہی ایک شہادت نہیں، بلکہ اور بھی مبارک ہستیوں کو ظلمًا شہیدکیا گیا ہے. اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت ان کے نانا جانﷺ کی وجہ ہی سے ہے، تو ان ہی کے طریقے کی مخالفت کے ساتھ کیسے ہو سکتی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟۔محبت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ہم وہ کام کریں جو وہ کرتے تھے، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تقویٰ، خشیت ، للہیت کی صفات سے آراستہ تھے، ہمیشہ اپنے نانا جان ﷺکے طریقے پر چلتے ہوےٴ زندگی بسر کی، کبھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہیں کی، جب کہ ہم صرف جھوٹی محبت کے دعوےدار ہیں ، ہماری زندگیاں ان کے بر عکس ہیں ، فضول رسومات اور بدعات میں اپنا وقت، پیسہ اور وسائل پربرباد کر رہے ہیں، اسوہٴ حسینی تو یہ ہوتا کے ہم حق کی پیروی کرتے اور جہاد کو مقصد زندگی بناتے.اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی، اپنے رسول ﷺ، خلفاء راشدین، اہل بیت، تمام صحابہرضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائیں ، اور بدعات، رسومات، خرافات سے بچا کر اس مہینے کے حقیقی احترام کی توفیق عطا فرمائیں.(آمین )۔
This article has been taken from IT Darasgah.
Sunday, 27 November 2011
Muharram or Aashura ki Haqiqat.....ماہ محرّم الحرام اور عاشورہ کی حقیقت
یکم محرم ، شہادت خلیفہ ثانی، حضرت عمر
جو بدبخت صحابہ کو برا کہتے ہیں وہ یہ بھی پڑھ لیں
